پنجاب اور خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقے قرار دیے گئے رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد خلاف ورزیوں میں ریاستی ادارے ملوث پائے گئے – فریڈم نیٹورک
اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران پاکستان میں دو صحافی پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کےدوران مارے گئے،جبکہ 16 صحافیوں پر حملے کئے گئے،11صحافیوں اور دیگر میڈیا پروفیشنلز کو مختلف قسم کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 58 صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کوقانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،پنجاب اور خیبر پختونخوا صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک علاقے قرار، 60 فیصد سے زائد خلاف ورزیوں میں ریاستی ادارے ملوث پائے گئے،رپورٹپاکستان میں صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کےلئے کام کرنےوالی









